خوراک و صحت

وٹامن سی ناخنوں کو کمزور ہونے سے بچائے

جرمن ماہرین صحت نے کہا ہے کہ وٹامن سی وزن کو کنٹرول کرنے سمیت بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، اعصابی تنائو ، ہڈیوں ، ناخنوں کی کمزوری، الرجی اور خشک جلد سے بچائو میں اہم کردار ادا کرتا ہے، سردی کے موسم میں نزلہ زکام ایک عام بیماری تصور کی جاتی ہے ، وٹامن سی کے معتدل استعمال سے نزلہ زکام سے بچا جا سکتا ہے، وٹامن سی کو بھی اعتدال میں رہ کر استعمال کرناچاہئے، جس طرح ہر چیز کے فائدے بھی ہوتے ہیں اسی طرح نقصانات بھی ہوتے ہیں۔

وٹامن سی ناخنوں کو کمزور ہونے سے بچائے

جرمن ماہرین صحت نے کہا ہے کہ وٹامن سی وزن کو کنٹرول کرنے سمیت بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، اعصابی تنائو ، ہڈیوں ، ناخنوں کی کمزوری، الرجی اور خشک جلد سے بچائو میں اہم کردار ادا کرتا ہے، سردی کے موسم میں نزلہ زکام ایک عام بیماری تصور کی جاتی ہے ، وٹامن سی کے معتدل استعمال سے نزلہ زکام سے بچا جا سکتا ہے، وٹامن سی کو بھی اعتدال میں رہ کر استعمال کرناچاہئے، جس طرح ہر چیز کے فائدے بھی ہوتے ہیں اسی طرح نقصانات بھی ہوتے ہیں۔

ایکنی  شخصیت میں اعتماد کی کمی کا باعث

ایکنی ایک عام جلدی مرض ہے جس کا سامنا تقریبا تمام ہی خواتین و حضرات کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کرنا پڑتا ہے۔ جب آپ کی جلد کے مسام کھلے ہوتے ہیں اور جلدی غدود تیل کا اخراج کرتے ہیں تو یہ دانوں، مہاسوں، سیاہ اور سفید کیلوں کی صورت میں ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ ایکنی کی وجہ اکثر لوگ شخصیت میں اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ بعض افراد کو قدرتی طور پر ایکنی ہونے کے خطرات دوسروں کے مقابلے زیادہ ہوتے ہیں۔ ٹیسٹو ٹرون ہارمون کی بلند سطح سیبم رطوبت کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے، جس سے ایکنی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ہارمونز کا یہ عمل مرد و عورت دونوں میں رات کی نسبت دن میں زیادہ تیز ہوتا ہے۔ کھلے ہوئے جلدی مسام بیکٹیریا کی افزائش کیلئے رہائش گاہ ثابت ہوتے ہیں۔ جو جلد میں جمع شدہ چکنائی کی تہہ توڑ کر سوزش پیدا کرتے ہیں اور دانوں یا مہاسوں کی شکل میں نمودار ہوکر غیر اطمینانی کیفیت کا سبب بنتے ہیں۔ ایکنی کی تشخیص کلینک میں ممکن ہے جہاں مریض کی میڈیکل ہسٹری کو سمجھتے ہوتے جلد کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس وقت تین درجوں کی ادویات کی مدد سے ایکنی کا علاج کیا جارہا ہے۔ جن میں ریٹینوائیڈز، اینٹی بائیوٹکس اور بینزیل پری آکسائیڈزشامل ہیں۔ شدید نوعیت کی ایکنی کا علاج لازمی طور پر ڈرماٹولوجسٹ ہی کر سکتا ہے۔ جراثیم سے جلد کی حفاظت، ادویات کا استعمال اور جلدی مصنوعات اور کاسمیٹکس کا محدود اور محتاط استعمال، سٹریس سے بچنے کی کوشش اور جلد کی صفائی کا خیال ایکنی سے نجات میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ایکنی  شخصیت میں اعتماد کی کمی کا باعث

ایکنی ایک عام جلدی مرض ہے جس کا سامنا تقریبا تمام ہی خواتین و حضرات کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کرنا پڑتا ہے۔ جب آپ کی جلد کے مسام کھلے ہوتے ہیں اور جلدی غدود تیل کا اخراج کرتے ہیں تو یہ دانوں، مہاسوں، سیاہ اور سفید کیلوں کی صورت میں ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ ایکنی کی وجہ اکثر لوگ شخصیت میں اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ بعض افراد کو قدرتی طور پر ایکنی ہونے کے خطرات دوسروں کے مقابلے زیادہ ہوتے ہیں۔ ٹیسٹو ٹرون ہارمون کی بلند سطح سیبم رطوبت کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے، جس سے ایکنی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ہارمونز کا یہ عمل مرد و عورت دونوں میں رات کی نسبت دن میں زیادہ تیز ہوتا ہے۔ کھلے ہوئے جلدی مسام بیکٹیریا کی افزائش کیلئے رہائش گاہ ثابت ہوتے ہیں۔ جو جلد میں جمع شدہ چکنائی کی تہہ توڑ کر سوزش پیدا کرتے ہیں اور دانوں یا مہاسوں کی شکل میں نمودار ہوکر غیر اطمینانی کیفیت کا سبب بنتے ہیں۔ ایکنی کی تشخیص کلینک میں ممکن ہے جہاں مریض کی میڈیکل ہسٹری کو سمجھتے ہوتے جلد کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس وقت تین درجوں کی ادویات کی مدد سے ایکنی کا علاج کیا جارہا ہے۔ جن میں ریٹینوائیڈز، اینٹی بائیوٹکس اور بینزیل پری آکسائیڈزشامل ہیں۔ شدید نوعیت کی ایکنی کا علاج لازمی طور پر ڈرماٹولوجسٹ ہی کر سکتا ہے۔ جراثیم سے جلد کی حفاظت، ادویات کا استعمال اور جلدی مصنوعات اور کاسمیٹکس کا محدود اور محتاط استعمال، سٹریس سے بچنے کی کوشش اور جلد کی صفائی کا خیال ایکنی سے نجات میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

آلو بخارا  کینسر کے مریضوں کیلئے مفید

آلو بخارا صحت سے بھرپور فوائد سے مالامال ہے۔ آلو بخار ا میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ کی طاقت اوسٹیوپروسس، میکیولر ڈیجنیریشن، کینسر، ذیابیطس ، عمل انہضام اور موٹاپے وغیرہ جیسی بیماریوں کے علاج میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے ۔ آلو بخارا مختلف وٹامنز اور منرلز کے خزانے پر مشتمل ہے۔ یہ وٹامن اے ، سی، کے، ای، وٹامن بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی سکس اسکے علاوہ اس میں موجود معدنیات پوٹاشیم، فلورائیڈ، فاسفورس، میگنیشیم، آئرن، کیلشیم اور زنک شامل ہیں۔ آلوبخارا موٹاپا اور موٹاپے سے تعلق رکھنے والی دیگر پیچیدگیوں کے علاج کے لئے بہترین ہیں ۔ اس میں موجود اینٹی اوبیسٹی اور اینٹی انفلیمنٹری اثرات کی وجہ سے موٹاپے سے نجات اور اس سے تعلق رکھنے والے امراض جیسے کولیسٹرول ، ذیابیطس اور دل کے امراض میں بھی بچائو ممکن ہے۔ آلو بخار ا نظام ہضم کے امراض کے علاج میں موثر ہیں۔ سات آلو بخارے رات کو سونے سے پہلے کھانے سے قبض نہیں ہوتا۔ گرمی میں ہونے والا سر کا درد آلو بخارا کھانے سے ختم ہوجاتاہے۔ آلو بخارا متلی، قے اور بے چینی میں بھی بے حد مفید ہے۔ املی اور خشک آلو بخارا بھگو کر اسکا پانی پینے سے گرمی کا خاتمہ اور گرمی سے آنے والا بخار دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بلڈ پریشر، بے چینی اور گرمی سے نجات دلاتا ہے۔

آلو بخارا  کینسر کے مریضوں کیلئے مفید

آلو بخارا صحت سے بھرپور فوائد سے مالامال ہے۔ آلو بخار ا میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ کی طاقت اوسٹیوپروسس، میکیولر ڈیجنیریشن، کینسر، ذیابیطس ، عمل انہضام اور موٹاپے وغیرہ جیسی بیماریوں کے علاج میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے ۔ آلو بخارا مختلف وٹامنز اور منرلز کے خزانے پر مشتمل ہے۔ یہ وٹامن اے ، سی، کے، ای، وٹامن بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی سکس اسکے علاوہ اس میں موجود معدنیات پوٹاشیم، فلورائیڈ، فاسفورس، میگنیشیم، آئرن، کیلشیم اور زنک شامل ہیں۔ آلوبخارا موٹاپا اور موٹاپے سے تعلق رکھنے والی دیگر پیچیدگیوں کے علاج کے لئے بہترین ہیں ۔ اس میں موجود اینٹی اوبیسٹی اور اینٹی انفلیمنٹری اثرات کی وجہ سے موٹاپے سے نجات اور اس سے تعلق رکھنے والے امراض جیسے کولیسٹرول ، ذیابیطس اور دل کے امراض میں بھی بچائو ممکن ہے۔ آلو بخار ا نظام ہضم کے امراض کے علاج میں موثر ہیں۔ سات آلو بخارے رات کو سونے سے پہلے کھانے سے قبض نہیں ہوتا۔ گرمی میں ہونے والا سر کا درد آلو بخارا کھانے سے ختم ہوجاتاہے۔ آلو بخارا متلی، قے اور بے چینی میں بھی بے حد مفید ہے۔ املی اور خشک آلو بخارا بھگو کر اسکا پانی پینے سے گرمی کا خاتمہ اور گرمی سے آنے والا بخار دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بلڈ پریشر، بے چینی اور گرمی سے نجات دلاتا ہے۔

 آئس پیک پیروں کی سوجن کم کرنے میں مددگار

پیروں میں سوجن کا آنا بہت دردناک ہوتا ہے۔ اس کے باعث پیر اتنے حساس ہوجاتے ہیں کہ انہیں چھونے سے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ یہ سب پیروں کے اطراف کے ٹشوز میں مائع جمع ہونے کے باعث ہوتا ہے ۔ اس کی عام وجوہات میں حمل، ادویات کے سائیڈ افیکٹ ، دل اور گردے کی بیماریاں اور پائو ں کی چوٹ شامل ہیں ۔ تاہم یہ مسئلہ اتنا زیادہ خطرناک نہیں ، آسان سے گھریلو علاج سے آپ اس تکلیف سے نجات پا سکتے ہیں۔ کشش ثقل پائوں کی سوجن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پیروں کی سوجن کو کم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پیروں کی سطح کو دل کی سطح سے اوپر رکھیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ لیٹے ہوئے ہوں ، تو اپنے پیروں کے نیچے تھوڑا اونچا تکیہ رکھ کر اسے اونچا کر لیں۔ اس سے پیروں کی طرف جانے والا پانی واپس ہو گا اور یورین کے ذریعے پاس ہوجائے گا۔ میگنیشیم کا استعمال خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے ۔ اگر جسم میں اس معدنی اجزا کی کمی ہوجائے تو پیروں میں سوجن آسکتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنی روزمرہ غذا میں اس کا استعمال ضرور کریں۔ کیلا، مچھلی، گری دار میوے اور ہرے پتوں والی سبزیوں میں وافر مقدار میں میگنیشیم پایا جاتاہے۔ یہ ایک قدرتی پیشاب آور سبزی ہے۔ یہ جسم سے اضافی سیال کو یورین کے ذریعے پاس کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتی ہے جو پیروں میں سوجن کا سبب بنتا ہے۔ سوجن کو کم کرنے کے لئے پیروں کے مساج کے ذریعے خون کے بہائو کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل جنرل آف نرسنگ پریکٹس کے مطابق حاملہ خواتین اگر پانچ دن تک صرف بیس منٹ کا مساج لیں تو قدرتی طور پر پیروں کی سوجن میں کمی آتی ہے۔ پیروں میں خون کے بہائو کو فروغ دینے کے لئے مساج بہترین طریقہ ہے۔ گوبھی کے پتے علاج کے طور پر پیروں پر تیس منٹ تک بینڈج کی صورت باندھنے سے سوجن میں کمی آتی ہے۔ بند گوبھی میں اینٹی سوزش خصوصیات پائی جاتی ہیں اور یہ پانی کو جذب کرنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتی ہے۔ منرل اور سالٹ جیسے سوڈیم جسم میں واٹر ریٹینشن کا سبب بن سکتے ہیں۔ اضافی نمک کو کم کرنے سے جسم سے سوجن کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جسم کی اندرونی صفائی کے لئے دن بھر میں پانی کا مناسب استعمال کرنا بے حد ضروری ہے۔ درد اور سوجن سے نجات کے لئے پیروں پر دس منٹ کے لئے آئس پیک کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کولڈ ٹمپریچر خون کے بہائو کو ریگولیٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔

 آئس پیک پیروں کی سوجن کم کرنے میں مددگار

پیروں میں سوجن کا آنا بہت دردناک ہوتا ہے۔ اس کے باعث پیر اتنے حساس ہوجاتے ہیں کہ انہیں چھونے سے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ یہ سب پیروں کے اطراف کے ٹشوز میں مائع جمع ہونے کے باعث ہوتا ہے ۔ اس کی عام وجوہات میں حمل، ادویات کے سائیڈ افیکٹ ، دل اور گردے کی بیماریاں اور پائو ں کی چوٹ شامل ہیں ۔ تاہم یہ مسئلہ اتنا زیادہ خطرناک نہیں ، آسان سے گھریلو علاج سے آپ اس تکلیف سے نجات پا سکتے ہیں۔ کشش ثقل پائوں کی سوجن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پیروں کی سوجن کو کم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پیروں کی سطح کو دل کی سطح سے اوپر رکھیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ لیٹے ہوئے ہوں ، تو اپنے پیروں کے نیچے تھوڑا اونچا تکیہ رکھ کر اسے اونچا کر لیں۔ اس سے پیروں کی طرف جانے والا پانی واپس ہو گا اور یورین کے ذریعے پاس ہوجائے گا۔ میگنیشیم کا استعمال خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے ۔ اگر جسم میں اس معدنی اجزا کی کمی ہوجائے تو پیروں میں سوجن آسکتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنی روزمرہ غذا میں اس کا استعمال ضرور کریں۔ کیلا، مچھلی، گری دار میوے اور ہرے پتوں والی سبزیوں میں وافر مقدار میں میگنیشیم پایا جاتاہے۔ یہ ایک قدرتی پیشاب آور سبزی ہے۔ یہ جسم سے اضافی سیال کو یورین کے ذریعے پاس کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتی ہے جو پیروں میں سوجن کا سبب بنتا ہے۔ سوجن کو کم کرنے کے لئے پیروں کے مساج کے ذریعے خون کے بہائو کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل جنرل آف نرسنگ پریکٹس کے مطابق حاملہ خواتین اگر پانچ دن تک صرف بیس منٹ کا مساج لیں تو قدرتی طور پر پیروں کی سوجن میں کمی آتی ہے۔ پیروں میں خون کے بہائو کو فروغ دینے کے لئے مساج بہترین طریقہ ہے۔ گوبھی کے پتے علاج کے طور پر پیروں پر تیس منٹ تک بینڈج کی صورت باندھنے سے سوجن میں کمی آتی ہے۔ بند گوبھی میں اینٹی سوزش خصوصیات پائی جاتی ہیں اور یہ پانی کو جذب کرنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتی ہے۔ منرل اور سالٹ جیسے سوڈیم جسم میں واٹر ریٹینشن کا سبب بن سکتے ہیں۔ اضافی نمک کو کم کرنے سے جسم سے سوجن کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جسم کی اندرونی صفائی کے لئے دن بھر میں پانی کا مناسب استعمال کرنا بے حد ضروری ہے۔ درد اور سوجن سے نجات کے لئے پیروں پر دس منٹ کے لئے آئس پیک کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کولڈ ٹمپریچر خون کے بہائو کو ریگولیٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔

خواتین کیلئے انتہائی ضروری 13 وٹامنز

صحت مند ذہن و بدن کے لئے وٹامنز اور منرلز بہت اہم ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق خواتین کی اکثریت زیادہ نہیں تو کم از کم ایک غذائی اجزا کی کمی کا ضرور شکار ہوتی ہیں۔ 13ایسے وٹامنز ہوتے ہیں جن کی خواتین کو ضرورت ہوتی ہے۔ان وٹامنز کوتمام خواتین کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنانا چاہئے۔ اگرخواتین میں وٹامن کے ، ڈی اور کیلشیم کی کمی ہوجائے تو پوسٹ مینو پاس جس کے باعث آگے جا کر اوسٹیوپروسس کی بیمار ی لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹ جیسے وٹامن اے اور سی کی کمی سے آنکھوں کے نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔ وٹامن سی سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے انفیکشن اور دیگر بیماریوں سے بچائو ممکن ہوتا ہے۔ وٹامن اے اور ای صحت مند خلیوں کی حفاظت او رخلیوں کی تبدیلی کو روکتے ہیں۔ نیشنل آئی انسٹیٹیوٹ کی ریسرچ کے مطابق وہ لوگ جو اپنی غذا میں اے ،ای اور سی وٹامنز نہیں لیتے تو انہیں بڑی عمر میں موتیا اور میکولر ڈی جنریشن کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ اے اور ای وٹامن جلد کے کینسر اور ایجنگ کے مسائل سے بچاتے ہیں۔ انڈے، ڈیری مصنوعات اور مشروم سے وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے، ساتھ ہی سورج کی روشنی بھی اس کا بہترین ذریعہ ہے۔ مرد و خواتین کی اکثریت وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت، دماغی کارکردگی، موڈ کی خرابی کو روکنے اور ہارمونل توازن کے لئے ضروری ہے۔ وٹامن کے ہڈیوں کی نشوونما اور مضبوطی ، خون کے جمنے اور دل کے امراض سے بچاتاہے۔ بہت سی خواتین میں ا س قیمتی غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے۔ وٹامن کے کی کمی سے بچنے کے لئے ہرے پتوں والی سبزیاں، بروکلی، بندگوبھی، مچھلی اور انڈے کا استعمال ضرور کریں۔ بی وٹامنز اور فولیٹ خواتین کے میٹابولزم ، تھکاوٹ سے بچائو اور کارکردگی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کیلوریز کا درست استعمال کرنے میں بھی کارآمد رہتے ہیں۔ مچھلی، گوشت، دودھ ، دہی اور انڈے کے استعمال سے وٹامن بی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خواتین کیلئے انتہائی ضروری 13 وٹامنز

صحت مند ذہن و بدن کے لئے وٹامنز اور منرلز بہت اہم ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق خواتین کی اکثریت زیادہ نہیں تو کم از کم ایک غذائی اجزا کی کمی کا ضرور شکار ہوتی ہیں۔ 13ایسے وٹامنز ہوتے ہیں جن کی خواتین کو ضرورت ہوتی ہے۔ان وٹامنز کوتمام خواتین کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنانا چاہئے۔ اگرخواتین میں وٹامن کے ، ڈی اور کیلشیم کی کمی ہوجائے تو پوسٹ مینو پاس جس کے باعث آگے جا کر اوسٹیوپروسس کی بیمار ی لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹ جیسے وٹامن اے اور سی کی کمی سے آنکھوں کے نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔ وٹامن سی سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے انفیکشن اور دیگر بیماریوں سے بچائو ممکن ہوتا ہے۔ وٹامن اے اور ای صحت مند خلیوں کی حفاظت او رخلیوں کی تبدیلی کو روکتے ہیں۔ نیشنل آئی انسٹیٹیوٹ کی ریسرچ کے مطابق وہ لوگ جو اپنی غذا میں اے ،ای اور سی وٹامنز نہیں لیتے تو انہیں بڑی عمر میں موتیا اور میکولر ڈی جنریشن کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ اے اور ای وٹامن جلد کے کینسر اور ایجنگ کے مسائل سے بچاتے ہیں۔ انڈے، ڈیری مصنوعات اور مشروم سے وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے، ساتھ ہی سورج کی روشنی بھی اس کا بہترین ذریعہ ہے۔ مرد و خواتین کی اکثریت وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت، دماغی کارکردگی، موڈ کی خرابی کو روکنے اور ہارمونل توازن کے لئے ضروری ہے۔ وٹامن کے ہڈیوں کی نشوونما اور مضبوطی ، خون کے جمنے اور دل کے امراض سے بچاتاہے۔ بہت سی خواتین میں ا س قیمتی غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے۔ وٹامن کے کی کمی سے بچنے کے لئے ہرے پتوں والی سبزیاں، بروکلی، بندگوبھی، مچھلی اور انڈے کا استعمال ضرور کریں۔ بی وٹامنز اور فولیٹ خواتین کے میٹابولزم ، تھکاوٹ سے بچائو اور کارکردگی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کیلوریز کا درست استعمال کرنے میں بھی کارآمد رہتے ہیں۔ مچھلی، گوشت، دودھ ، دہی اور انڈے کے استعمال سے وٹامن بی حاصل کیا جا سکتا ہے۔